(الجامعۃ الاحمدیہ (السنیہ

previous arrowprevious arrow
next arrownext arrow
Shadow
Slider

تعارف جامعہ

یہ ادارہ اتر پردیش کے تاریخی اور مشہور شہر قنو ج میں واقع ہے جو ۴؍ رمضان المبارک ١٤٠٥ھ مطابق،١٩٨٥ء میں حضرت بحر العرفان مفتی آفاق احمد صاحب مجددی کی مساعی جمیلہ سے قیام پذیر ہوا ۔ابتد اء ً چھوٹی سی جگہ میں چلنے والا یہ ادارہ بفضلہ تعالیٰ نہایت قلیل مدت میں پندرہ ایکڑ سے زیادہ قطعۂ آراضی پر پھیلی ہوئی مختلف عمارتوں پر مشتمل ہے ،جیساکہ آپ دیکھیں گے ،علاوہ ازیں ہندوستا ن کے مختلف صوبوں اور شہروں میں اس کی شاخیں دین و سنیت کی تبلیغ واشاعت میں ہمہ دم مصروف ِعمل ہیں اور جامعہ کے فارغین و فارغات علماء ،فضلاء ،حفاظ و قراء نیز عالمات و فاضلات ملک و بیرون ملک کے متعددعلاقوں اور ہندوستان کے مختلف صوبوں جیسے یوپی ،ایم پی، دہلی، راجستھان، اے پی، بہار، مہاراشٹر پنجاب اور کشمیر وغیرہ میں مسلک حق کی ترویج و اشاعت کی گراں قدرخدمات انجام دے رہے ہیں
Go to نصاب

نصاب

الجامعۃ الاحمدیہ ایسے افراد تیار کرنے کی کوشش کرتاہے جو علوم و فنون میں مہارت رکھنے کے ساتھ قائدانہ اوصاف و صلاحیت سے آراستہ ہوں اور دین و سنیت کی تبلیغ و اشاعت کا جذبہ صادق رکھتے ہوں ، تاکہ ہر محاذ پر قوم کی صحیح رہنمائی کر سکیں ،اسی لئے مندرجہ ذیل نصاب کے ساتھ ساتھ طلبہ کی دینی تربیت اور تعمیر ظاہر و باطن کا خاص طور پرلحاظ رکھا جاتاہے ۔ جامعہ کے نصاب کا اجمالی خاکہ یہاں پیش کیا جارہاہے اس وقت جو نصا ب رائج ہے وہ گیارہ سال کا ہے (۱ ) ابتدائی (پرائمری)۳ ؍ سال (۲) ثانوی ۴؍ سال (۳) عا لمیت ۲؍ سال (۴) فضیلت ،۲؍ سال

Go to دیگر خدمات

دیگر خدمات

(۱)تعمیر مساجد (۲)امداد غرباء (۳)مکاتب و مدارس کا قیام (۴)غریب اور بے سہارا بچیوں کی شادیاں کرانا جامعہ کا ایک خاص کارنامہ یہ بھی ہے کہ آغاز ۲۰۱۰ء؁سے صدر جامعہ کی جانب سے غریب اور بے سہارا بچیوں کی شادیاں کرائی جاتی ہیں،جس سے غریب ماں باپ کے سروں سے بہت بڑا بوجھ دور ہوجاتا ہے ، بفضلہ تعالیٰ یہ کا م پوری ذمہ داری کے ساتھ جامعہ کی جانب سے ہر سال بخوبی انجا دیا جاتاہے ، اب تک کہ کثیر تعدا د میں بچیوں کی شادیاں کرائی جاچکی ہیں ، جس کا شہر اور اطراف کے کئی ضلعوں کے مسلمانوں میں کافی اثر قائم ہے ۔

Go to لائبریری

لائبریری

جامعہ میں عربی زبان و ادب سے متعلق کتب وافر مقدار میں موجود ہیں جن کے لئے سینٹرل لائبریری میں ایک کمرہ مخصوص ہے ۔ جامعہ کی سینٹرل لائبریری جس میں درسی و غیر درسی کتب کے علاوہ تفسیر ،اصول تفسیر ،حدیث اصول حدیث ،فقہ ، اصو ل فقہ ، مناظرہ ، رد وہابیہ ، اور غیر مقلدین و قادیانیت و شیعیت وغیرہ کے رد سے متعلق ہزاروں کتابیں موجود ہیں ۔ 40×80 کا ایک عظیم الشان ہال جو طلباء کے مطالعہ و تکرار اور ہفتہ واری بزم نیز اصلاحی اور تنظیمی پروگراموں کے لئے مخصوص ہے جس میں میز کرسی اور لائٹ وغیرہ کا معقول انتظام رہتاہے ۔

Go to شعبے

شعبے

شعبہ عربی کے طلباء او ر طالبات کے لئے ایک سبجکٹ انگلش اور ضروری عصری تعلیم لازم ہے ۔ شعبہ انگلش میں ’’سی۔ بی۔ ایس۔ ای ‘‘بورڈ کے نصاب کے ساتھ عربی قرآن کی تعلیم کا ایسا ن انضمام کیا گیا ہے کہ طلباء آٹھویں درجے تک پہنچ کر قرآن کو قواعد تجوید کے مطابق پڑھنے لگیں اور قرآن کا ترجمہ کرنے لگیں اور قرآن سمجھنے لگیںاس میں ضروری قواعد نحو و صرف بھی شامل ہیں اور نویں و دسویں درجے تک عربی زبان میں حدیث اور گیارہویں و بارہویں میں فقہ کی تعلیم رکھی گئی ہے

اغراض و مقاصد

بانی جامعہ کا مختصر تعارف

(الجامعۃ الاحمدیہ (السنیہ
یہ ادارہ اتر پردیش کے تاریخی اور مشہور شہر قنو ج میں واقع ہے

یہ ادارہ اتر پردیش کے تاریخی اور مشہور شہر قنو ج میں واقع ہے جو ۴؍ رمضان المبارک ١٤٠٥ھ مطابق،١٩٨٥ء میں حضرت بحر العرفان مفتی آفاق احمد صاحب مجددی کی مساعی جمیلہ سے قیام پذیر ہوا ۔ابتد اء ً چھوٹی سی جگہ میں چلنے والا یہ ادارہ بفضلہ تعالیٰ نہایت قلیل مدت میں پندرہ ایکڑ سے زیادہ قطعۂ آراضی پر پھیلی ہوئی مختلف عمارتوں پر مشتمل ہے ،جیساکہ آپ دیکھیں گے ،علاوہ ازیں ہندوستا ن کے مختلف صوبوں اور شہروں میں اس کی شاخیں دین و سنیت کی تبلیغ واشاعت میں ہمہ دم مصروف ِعمل ہیں اور جامعہ کے فارغین و فارغات علماء ،فضلاء ،حفاظ و قراء نیز عالمات و فاضلات ملک و بیرون ملک کے متعددعلاقوں اور ہندوستان کے مختلف صوبوں جیسے یوپی ،ایم پی، دہلی، راجستھان، اے پی، بہار، مہاراشٹر پنجاب اور کشمیر وغیرہ میں مسلک حق کی ترویج و اشاعت کی گراں قدرخدمات انجام دے رہے ہیں

قنوج کی تاریخی حیثیت

قنوج ایک نہایت قدیم ،تاریخی شہر ہے۔ تاریخ ہندوستا ن کے مطابق قنوج دنیا کی دوسری یا تیسر ی آبادی ہے، جسے حضرت آدم علیہ السلام کے بیٹے قابیل نے آباد کیا تھا ۔ قدیم زمانے میں یہ شہر پورے غیر منقسم ہندوستان کی راجدھانی رہا ہے ۔تاریخ فرشتہ کے بیان سے اس کی وسعت کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے ،نیزعرصۂ دراز تک شمال ہند کی راجدھانی رہا۔اس شہر کو یہ شرف بھی حاصل ہے کہ اس میں تین صحابۂ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم کے مزارات مقدسہ ہیں ’’الاصابۃ فی تمیز الصحابۃ‘‘میں بھی اس کی صراحت موجود ہے ،نیز مختلف سلاسل کے کئی بزرگوں کے مزارات بھی اس کی عظمت رفتہ کے گواہ ہیں ، جیسے حضرت حاجی شریف زندنی ( علیٰ اختلاف الروایۃ) حضرت بالاپیر ، حضرت سلطان پیر ، حضرت مخدوم اخی جمشید ،حضرت مخدو م جہانیاں رحمھم اللہ ، نیز خود حضرت خواجۂ ہندوستان غریب نواز قدس سرہٗ کے خاص خلیفہ حضرت شیخ احمد رحمۃ اللہ علیہ بھی یہاں تشریف لائے اور یہیں مدفون ہوئے ،آج بھی آپ کے نام سے محلہ احمدی ٹولہ آباد ہے ۔اس کے علاوہ یہ شہر تجارت و معیشت کے اعتبار سے بھی بڑی اہمیت کا حامل ہے یہاں کا عطر پوری دنیا میں جاتاہے اور قنوج کو عطرو اتہاس کی نگری کہا جاتاہے ۔ اس شہر کی آبادی ایک لاکھ سے زائد ہے جس میں تقریباً ۴۵؍ فیصد مسلم آبادی ہے او ر اہل سنت کو اکثریت حاصل ہے

سرگرمیاں

رابطہ کریں

احمد نگر، حمالی پورہ، قنوج، اتر پردیش، بھارت