December 30, 2018

بانی جامعہ

بانی جامعہ کا مختصر تعارف

الجامعۃ الاحمدیہ کے بانی و مہتمم شیخ طریقت مناظر اہل سنت بحر العرفان استاذ العلماء حضرت علامہ الحاج الشاہ مفتی آفاق احمد مجددی صاحب قبلہ دام ظلہ ہیں ،آپ نسباًصدیقی ،مسلکاً حنفی اور مشرباً نقشبندی مجددی ہیں۔
آپ کی ولادت ۱۹۵۹؁ء میں ضلع فرخ آباد کے ایک گاؤں بھڑونسہ میں ہوئی ۔ابتدائی تعلیم گاؤں ہی کے ایک مکتب اور قصبہ جراری کے ایک مکتب سے حاصل کی ، بعدہٗ شہر بدایوں میں عربی، فارسی، فقہ و حدیث وغیرہ کی تعلیم حاصل کرنے کے بعد جامعہ اشرف کچھوچھہ مقدسہ میں عا لمیت و فضیلت کی مکمل تعلیم حاصل کی نیز وہیں سے سند فراغت بھی حاصل کی اور اسی جامعہ میں بحیثیت مدرس مقرر ہوئے ۔ ایک سال وہاں علم و فن کے گوہر لٹانے کے بعد اپنے پیر و مرشد کے حکم پر مدرسہ گلشن رضا چھپیہ گورکھپور میں تشریف لائے ،یہاں تین سال مسلسل دارالعلوم کی ترقی کے لئے انتھک کوشش اور سعی پیہم کرتے رہے اور اسے ترقیوں کی راہ پر گامزن کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا ۔ چند وجوہات کی بنا پر وہاں سے مستعفی ہو کر قنو ج شہر کو اپنی ہمہ جہت خدمات کے لئے منتخب فرمایا اور الجا معۃالاحمدیہ کی بنیاد رکھی ۔ جامعہ کی تعمیر و ترقی کے لئے آپ نے جن مشکلات کا سامنا کیا انھیں بیان کرنے کے لئے ایک دفتر درکار ہے ،یہ

مختصر تعارف اس کی گنجائش نہیں رکھتا ۔الغرض وہ جامعہ جسے آپ نے ایک چھوٹی سی جگہ میں شروع کیا تھا آپ کی جہد مسلسل او ر بے انتہاء محنت و مشقت نے آج اسے الجامعۃ الاحمدیہ کی شکل میں قوم کے سامنے پیش کر دیا ۔آپ کو شیخ طریقت سرتاج ولایت واصل بارگاہ سبحان عارف باللہ حضرت مولانا شاہ احمد رضا خان صاحب قبلہ نقشبندی مجددی سجاوہ نشین خانقاہ خیریہ کمالپور بنارس سے بیعت و ارادت کا شرف حاصل ہے۔چند سا ل انکی صحبت بابرکت میں رہ کر آ پ نے باضابطہ سلوک مجددیہ کے مقامات طے فرمائے اور ان سے جمیع سلاسل مشہورہ کی اجازت و خلافت سے سرفراز ہوئے ۔ نیز گل بوستان برکاتیت رفیق ملت حضرت مولانا شاہ سید نجیب حیدر میاں صاحب نائب سجادہ نشین خانقاہ برکاتیہ مارہرہ مطہرہ سے بھی خاندان برکات میں رائج تمام سلاسل کی اجازت وخلافت آپ کو حاصل ہے ،یقیناً آپ کی ذات تقویٰ و طہارت ، علم و عمل اور اتباع سنت کی منھ بولتی تصویر ہے ۔
بحمدہٖ تعالیٰ اس وقت ہزاروں لوگ آپ کے دامن کرم سے وابستہ ہیں اور چاروں سلاسل مشہورہ بالخصوص نقشبندیہ مجددیہ کے فیضان سے مالامال ہورہے ہیں ، نیز اس مادیت زدہ ماحول میں سیکڑوں لوگ باقاعدہ تصوف و روحانیت ،تصفیۂ قلب اور تزکیۂ نفس کی دولت اور ذکر وفکر کی سعادت آپ کے ذریعہ حاصل کر رہے ہیں ۔
علوم دینیہ کی نشر و اشاعت کے ساتھ ساتھ تصوف و روحانیت کو عام کرنے کے لئے آپ نے تحریک تصوف کے زیر اہتمام فروغ تصوف فاؤنڈیشن اور خانقاہ مجددیہ کا قیام فرمایا ،جن کے ذریعہ تصوف کی علمی و عملی تعلیم و تربیت کا سلسلہ جاری و ساری ہے ،اللہ تعالیٰ نے آپ کو علم و فن میں مہارت تامہ کے ساتھ ساتھ تصوف و روحانیت میں ایسا ملکہ عطا فرمایا ہے کہ اس دور میں بلا مبالغہ نہا یت کم یاب ہے ۔ آپ جدیدیت و مادیت کے اس دور میں حدیث و تفسیر اور فقہ کی تعلیم کے ساتھ تصوف و روحانیت اور ذکر و مراقبہ میں ہر وقت مصروف رہتے ہوئے تبلیغی دورے بھی کرتے رہتے ہیں اور تصنیف و تالیف کا کا م بھی انجام دیتے ہیں ۔

آپ کی تصنیفات

مطبوعہ کتب
(۱) آداب طریقت (۲) سلسلہ نقشبندیہ اور اسکا سلوک
(۳)حضرت مجدد الف ثانی اپنے کمالات اور دینی خدمات کے آئینے میں ۔
(۴) تذکرہ مشائخ مجددیہ (۵) ذکر و فکر
(۶)تذکرہ مشائخ سہروردیہ (۷)نغمات بحر العرفان( مجموعہ نعت ومنقبت)۔
غیر مطبوعہ کتب
(۱)شرح ملاحسن (۲) شرح اصول الشاشی
(۳) شرح میزان الصرف (۴) کشف والہام کی شرعی حیثیت
(۵)شطحیات اور انکے اسباب (۶) معارف مجدد
(۷) اصطلاحات تصوف (۸) صغروی سادات اور انکی خدمات
(۹)غوثیت و مداریت (۱۰)تصوف اور اس کے فوائد
(۱۱) تجدید الف ثانی (تین جلدیں ) (۱۲)حدیث تجدید
(۱۳)داغہائے دل (۱۴)خصائص نقشبندیہ
(۱۵)سلاسل اور انکے اسباب اختلاف (۱۶)شرح اصطلاحات تصوف
(۱۷) نبوت و ولایت (۱۸) ترجمہ مبدأ و معاد
(۱۹)ترجمہ مقامات احمدیہ سعیدیہ (۲۰ ) مشائخ نقشبندیہ اور تحفظ سنیت
(۲۱) تحدیث نعمت (۲۲) تربیت اھل سلوک
(۲۳) روائح سکینہ ترجمہ لطائف مدینہ (۱۴) رسالہ فوائد کشف
(۲۵)مہتمم و معلم کے آداب (۲۶) ارشادات مشائخ
(۲۷)حضرت مجدد کی بعض کرامتیں (۲۸) نجدیت اپنے افکار و اعمال کے آئینے میں
(۲۹) عظمت صحابہ (۳۰) دعوت الی اللہ